شیخُ الازہر کی اسپین کے سفیر سے ملاقات — غزہ پر جارحیت کے خلاف اسپین کے جرات مندانہ مؤقف کو سراہا
عزت مآب امام اکبر پروفیسر ڈاکٹر احمد طیب، شیخُ الازہر شریف نے بروز پیر مشیخۃ الازہر میں قاہرہ میں متعین اسپینش سفیر، عزت مآب سیرخیو کارانزا، کا استقبال کیا۔ ملاقات میں باہمی تعاون کے فروغ اور مختلف علمی و ثقافتی شعبوں میں روابط کو مستحکم بنانے کے امکانات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
اس موقع پر عزت مآب امام اکبر نے عالمی سطح پر حق و انصاف کے معاملات، خصوصاً غزہ پر جاری جارحیت کے حوالے سے اسپین کے جرات مندانہ اور اصولی مؤقف کو سراہتے ہوئے کہا کہ ازہر شریف ان واضح اور منصفانہ مواقف کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، جن کے ذریعے اسپین نے عالمی خاموشی کے ماحول میں ہونے والے مظالم اور قتلِ عام کو مسترد کیا ہے۔ شیخُ الازہر نے واضح کیا:’’ہم نے آپ کے ملک کے جرات مندانہ موقف کا قریب سے مشاہدہ کیا ہے۔ اسپین نے انصاف، دیانت اور اخلاقی جرأت کی وہ مثال قائم کی ہے جو ترقی یافتہ اقوام سے متوقع ہوتی ہے۔ ہم دنیا کے تمام ممالک سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بھی ایسے ہی جرات مندانہ مؤقف اختیار کریں اور مظلوم اقوام کی حمایت میں آواز بلند کریں۔‘‘
ملاقات کے دوران عزت مآب امام اکبر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ازہر شریف اپنے طلبہ کی تربیت اس انداز سے کرتا ہے کہ ان کے اندر تنوع، رواداری اور دوسروں کو قبول کرنے کی اقدار مضبوط ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ الازہر کا منہج اعتدال، توازن، انتہاپسندی سے دوری، اور امن و بقائے باہمی کے فروغ پر مبنی ہے۔ انہوں نے مزید فرمایا کہ الازہر اسپین کے طلبہ کے لیے تعلیمی وظائف میں اضافے کے لیے تیار ہے، نیز اسپین کے ائمہ و خطباء کو ’’الازہر عالمی اکیڈمی برائے تربیتِ ائمہ و واعظین‘‘ میں تربیت دینے کا بھی خیر مقدم کرتا ہے۔ یہ تربیت ایک متوازن اور علمی ازہری نصاب کے تحت دی جاتی ہے، جسے الازہر کے ممتاز علما اور مختلف شعبوں کے ماہر اساتذہ پر مشتمل خصوصی علمی کمیٹیوں نے مرتب کیا ہے۔
دوسری جانب اسپین کے سفیر نے شیخُ الازہر سے ملاقات پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے عالمی امن، انسانی اخوت اور مظلوم اقوام کی حمایت کے لیے آپ کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسپین کی پالیسی انسانی حقوق کے احترام اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری پر قائم ہے۔ اسپین کے سفیر نے مزید کہا کہ الازہر دنیا کے اُن اہم اداروں میں شمار ہوتا ہے جو عالمی سطح پر عدل، رواداری اور باہمی احترام کے قیام میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے اسپین کی جانب سے الازہر کے ساتھ ترجمہ، اساتذہ و محققین کے تبادلے، جامعۃ الازہر اور اسپینش جامعات کے مابین مشترکہ علمی تحقیقات، اور ماہِ رمضان میں اسپینش مساجد میں روحانی اجتماعات کے لیے ازہری مندوبین بھیجنے جیسے شعبوں میں تعاون بڑھانے کی خواہش کا اظہار بھی کیا۔