شیخ الازہر کہتے ہیں: اللہ کے نام " الوہاب" کا اطلاق انسانوں پر کرنا جائز نہیں ہے کیونکہ ان کی طبیعت بلاوجہ کسی کو دینا قبول نہیں کرتی ہے۔

برنامج الإمام الطيب ٢٠٢٢.jpeg

امام اکبر پروفیسر ڈاکٹر احمد طیب شیخ الازہرنے کہا: اللہ کا نام " الوہاب" اللہ کے اسمائے حسنیٰ میں سے ہے،  جس کا ذکر قرآن کریم میں یوں آیا ہے:وهب لنا من لدنك رحمة إنك أنت الوهاب،  اور اللہ تعالی کا ارشاد ہے:أم عندهم خزائن رحمة ربك العزيز الوهاب،  اور فرمایا:قال رب اغفر لي وهب لي ملكاً لا ينبغي لأحد من بعدي إنك أنت الوهاب،  انہوں نے واضح کیا کہ لفظ الوہاب ہبہ سے  ماخوذ ہے جس کا معنی ہدیہ اور عطاء ہے، جب آپ کسی شخص کو کوئی چیز حبا کرتے ہیں تو آپ اس کے ساتھ دیتے ہیں کہ یہ کسی عوض کے بغیر ہے۔
 امام اکبر نے اپنے رمضان پروگرام " امام طیب"  کی سترہویں نشست میں واضح کیا کہ:  صفت الوہاب  کے ساتھ صرف اللہ کو متصف کیا جاسکتا ہے، اللہ ہی بغیرعوض کے دیتا ہے،  جبکہ کے علاوہ بھی دیتا ہے وہ کسی بدلے کا منتظر رہتا ہے،  خاص طور پر جب مال دیا جاتا ہے،  اور اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ قرآن میں بہت سارے  مواقع پر مال کو اولاد پر مقدم کیا گیا ہے، اللہ تعالی کا ارشاد ہے: مال اور اولاد دنیاوی زندگی کی زینت ہیں،  اور فرمایا:  جو اپنے مالوں اور جانوں سے جہاد کرتے ہیں،  اسی لیے مخلوق میں سے جب کوئی کسی کو مال دیتا ہے تو اسے بدلنے کا انتظار رہتا ہے کیونکہ بغیر عوض کے دینا اس کے لیے مشکل ہوتا ہے۔
 امام اکبر نے مزید کہا کہ: الوہاب کا اطلاق بندوں پر کرنا  شرعی طور پرجائز نہیں ہے،  کیونکہ ان کی طبیعت بغیر کسی بدلے کے دینے کو قبول نہیں کرتی،  یہاں تک کہ  کئی طرح کی عطاء وہ ہوتی ہے جس کا  پہلے سے بدلہ ادا کیا جا چکا ہوتا ہے، پروان چڑھتی اولاد کو دیکھ کر خوشی اور رونق محسوس کرنا ایک بدلہ ہے،  انہوں نے وضاحت کی کہ: اپنی اولاد پر خرچ کرنا ہبہ نہیں کہلاتا کیونکہ ان کو دے کر آپ خوشی محسوس کرتے ہیں اور یہ اس کا بدلہ ہے،  یہ بات ذہن میں رہے کہ ہر دینے والا بدلے کا منتظر ہوتا ہے، مگر اللہ تعالی کی وہاب ذات بغیر سوال کے اور بغیر کسی بدلے کے انتظار کے عطا کرتی ہے۔
شیخ الازہر نے واضح کیا ہے کہ: اللہ کا یہ  فعل  پہلے تو بغیر کسی عوض  کے ہے،  اور یہ عطاء صرف انسان کے ساتھ خاص نہیں ہے بلکہ کائنات میں موجود ہر شے کو جہاں رزق ملتا ہے، اسے  یہ صفت شامل ہے،  انہوں نے کیا ہے کہ اللہ کی عطاء غیر محدود اور نہ ختم ہونے والی ہے،  اس پر مزید یہ کہ وہ بغیر سوال کے دیتا ہے،  جس پر اس کا شکر ادا کرنا مخلوق کے  لیے واجب ہو جاتا ہے،  نبی اکرم ﷺجب کوئی نیا لباس پہنتے تو فرماتے:  اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے  بغیر کوشش اور طاقت کے یہ عطا کیا،  اے اللہ! مجھے جنت کا لباس پہنا، پھر وہ اپنی پرانی چادر کو صدقہ کر دیتے تھے،  شیخ الازہر نے واضح کیا ہے کہ اللہ کی نعمتیں کبھی ختم نہیں ہوتی،  اگر ہم کرونا وائرس کے دوران اقتصادی تنگی اور بحران کو دیکھیں جس کا دنیا کو سامنا تھا تو ہم سوچ سکتے ہیں کہ اگر معاملہ کچھ اور لمبا ہوتا تو زندگی انجام کو پہنچ جاتی،  چنانچہ انسان عاجز ہے جیسا کہ  نبی اکرم ﷺنے فرمایا اللہ کی قدرت کا محتاج ہے۔
امام اکبر نے اپنی بات ختم کرتے ہوئے کہا کہ:  اللہ کے  افعال جو بندوں میں ظاہر ہوتے ہیں ان کی دو قسمیں ہیں:  ایک وہ قسم ہے جن کا تعلق نعمتوں سے ہے جیسے مال، اولاد، صحت اور علم وغیرہ تو ان پر  اللہ کے نام وہاب کا اطلاق مکمل طور پر ہوتا ہے،  لیکن دوسری قسم ان افعال کی ہے جو بندوں میں درد اور تکلیف کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں جیسے بیماری، غربت اور رنج و الم وغیرہ تو یہ  چیزیں انسان کے ہاں ناپسندیدہ ہیں، چنانچہ میں ان پر اللہ کے نام وہاب کا اطلاق نہیں کر سکتا کیونکہ یہ نعمتیں نہیں ہیں بلکہ آزمائش اور امتحان ہے۔

خبروں کو فالو کرنے کے لیے سبسکرائب کریں

تمام حقوق امام الطیب کی ویب سائٹ کے لیے محفوظ ہیں 2025