شیخ الازہر کہتے ہیں: بندے پر رزق کی تنگی یا وسعت کا تعلق خیر و شر سے نہیں بلکہ یہ اللہ کی حکمت ہے جسے وہی جانتا ہے۔
امام اکبر پروفیسر ڈاکٹر احمد طیب شیخ الازہر نے کہا: قابض اور باسط اللہ کے دو نام ہیں جو قرآن میں فعل کے صیغہ کے ساتھ وارد ہوئے ہیں، کیونکہ یہ صفات افعال ہیں صفات ذات نہیں ہیں، صفات ذات ہوتے تو مبالغہ کے صیغہ کے ساتھ آتے اور نام بذات خود بھی مذکور ہوتا، لیکن ان دونوں ناموں کا اثر مخلوقات میں ظاہر ہوتا ہے، چنانچہ بسط کا مطلب عطا کرنا اور وسعت دینا ہے، جبکہ قبض کا مطلب لے لینا اور تنگی کرنا ہے۔
امام اکبر نے رمضان پروگرام " شیخ الازہر کی گفتگو" کی تئیسویں نشست میں کہا: رزق میں تنگی کا تعلق شر سے نہیں ہے یا ایسا نہیں ہے کہ یہ چیز غیر محبوب اور کوئی سزا ہے، اسی طرح رزق میں فراوانی نیکو کاری یا اللہ سے قربت یا محبت کی دلیل نہیں ہے، کیونکہ اللہ سبحانہ و تعالی نے دنیا کو انسان کی قیمت یا صلاح و فساد کا معیار نہیں بنایا، چنانچہ اللہ جیسے نیک فقیر سے چیزوں کو روک لیتا ہے اسی طرح اپنے بد کار بندے کو دیتا بھی ہے، یہ بات بڑی اہمیت کی حامل ہے اور یہ وہ بات ہے اکثر لوگ جس میں غلطی کرتے ہیں اور اس کی تصحیح ضروری ہے۔
شیخ الازہر نے اس بات پر زور دیا ہے کہ مال اللہ کا ہے، اور جب اللہ مستحقین سے مال کو روک لیتا ہے تو آپ اپنی خواہش اور جبلت کے مطابق تصرف کرتے ہیں اور جس چیز کا اللہ نے حکم دیا ہے اسے معطل کردیتے ہیں، جس طرح رزق میں کشادگی ہوتی ہے اسی طرح علم میں بھی ہوتی ہے اور مال میں بھی ہوتی ہے اسی طرح اور بہت ساری چیزوں میں ہوتی ہے جنہیں ہم نہیں جانتے لیکن زمین و آسمان میں اللہ انہیں جانتا ہے۔
شیخ الازہر نے اپنی بات ختم کرتے ہوئے کہا کہ بہت ساری احادیث نبویہ خرچ کرنے اور بخل نہ کرنے پر ابھارتی ہیں، نبی اکرم ﷺنے سیدہ اسما سے فرمایا: مال کو مت روکو، نہیں تو تم سے بھی روک لیا جائے گا، یعنی مال روکنے کی وجہ سے اللہ بھی تم پر تنگی کر دے گا، اور دوسری بہت ساری احادیث ہیں جو غربت کے ڈر سے خرچ کرنے میں خوف کھانے کا مداوا کرتی ہیں، نبی اکرم ﷺنے فرمایا: مال میں صدقہ کرنے سے کوئی کمی نہیں ہوتی بلکہ اللہ تبارک و تعالی اس کا بدلہ مال، صحت یا لمبی عمر کی صورت میں عطا فرمائے گا، شیخ الازہر نے اس بات پر تنبیہ کی ہے کہ بغیر کسی ضرورت کے مال کا سوال نہ کیا جائے کیونکہ نبی اکرم ﷺنے فرمایا: جب بندہ سوال کرتا ہے تو اللہ اس پر غربت کا دروازہ کھول دیتا ہے، یہ اس بات کی منادی ہے کہ بندہ عزت کا راستہ اختیار کرے اور جس قدر ہوسکے سوال سے بچتا رہے۔