ازہراکیڈمی میں تربیت پانے والوں سے شیخ الازہر ملاقات کرتے ہیں۔
گرینڈ امام پروفیسر ڈاکٹر احمد طیب شیخ الازہر بیس عرب مسلم ممالک سے آئے ہوئے ایک سو تیس آئمہ و خطباء کا استقبال کرتے ہیں جو ازہراکیڈمی میں مفتی کورس کی تربیت لے رہے ہیں۔
گرینڈ امام نے تربیت پانے والے آئمہ و خطباء کو مشیخۃ الازہر میں خوش آمدید کہتے ہوئے نہایت خوشی کا اظہار کیا، انہوں نے مزید کہا کہ آپ کو دیکھ کر مجھے خیر اور میں دکھائی دے رہی ہے کے ازہر اپنے معتدل پیغام کو دنیا کے ہر کونے تک پہنچانے کے لیے پھر سے سرگرم ہو گیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ: دہشت گردی صرف عرب خطوں میں نہیں رہ گئی بلکہ پوری دنیا میں پھیل چکی ہے چنانچہ اس کا بھرپور مقابلہ ضروری ہو گیا ہے اور یہ صرف سیکورٹی کی سطح پر نہیں بلکہ فکر کا فکرسے مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے اور اس اکیڈمی کو قائم کرنے کا یہی بنیادی ہدف ہے، انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ آئمہ و خطباء کی درست علمی بنیادیں انہیں معاصر چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت فراہم کریں گی اور ان میں صحیح اسلام کا منہج ودیعت کریں گی جس منہج کی ازہر ایک ہزار سال سے تعلیم دے رہا ہے۔ دوسری جانب اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل پروفیسر ڈاکٹر عبدالمنعم فؤاد نے اس تربیتی کورس کے متعلق بتاتے ہوئے کہا کہ اس میں معاصر فقہی مسائل سمیت حاکمیت، جھاد، خلافت اور عقیدہ "الولاء والبراء "کے ضمن میں غلط مفاہیم کی درستی شامل ہے، مذہبی تعصب و اختلافات اور فرقہ واریت پر مباحثے بھی موجود ہیں، اس کے ساتھ ساتھ علم نفس، سماجیات، باہمی رابطے کی مہارتیں اور ورکشاپس بھی کورس کا حصہ ہیں۔
ملاقات کے آخر میں گرینڈ امام نے تربیتی پروگرام کو مزید بہتر بنانے کے لئےآئمہ و خطباء کی تجاویز بھی سنیں، انہوں نے اکیڈمی کے ان پروگرامز کو وسعت دینے کی ضرورت کا اظہار کیا ہے، اور اکیڈمی میں پڑھائے جانے والے علمی پروگرام اور اہم معاصر مسائل کی تعلیم دینے کو سراہتے ہوئے کتب کی فراہمی کی رغبت کا اظہار کیا ہے۔