گرینڈ امام نے قاہرہ میں قائم مقام امریکی سفیر کا استقبال کرتے ہوئے کہا: ہم مسلم اقوام اور امریکی قوم کے مابین اسٹیریو ٹائپ اسالیب کو تبدیل کرنے کے ضمن میں تعاون کرنے کے خواہش مند ہیں۔
گرینڈ امام پروفیسر ڈاکٹر احمد طیب شیخ الازہر نے بدھ کے روز قائم مقام امریکی سفیر جناب تھامس گولڈ برگر کا استقبال کیا، گرینڈ امام کا کہنا تھا: ازہر شریف انتہا پسند فکر کا مقابلہ کرنے اور مختلف تہذیبوں کے مابین تعاون اور مفاہمت قائم کرنے میں اپنی انتہائی کوششیں صرف کررہا ہے، انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ ازہر اندرونی اور بیرونی سطح پر تمام دینی اداروں بالخصوص ویٹیکن، کنٹربری چرچ، عالمی مجلس کلیسا اور مصر کے مختلف چرچز کے ساتھ تعاون کرنے اور روابط قائم کرنے کا خواہشمند ہے، مختلف تہذیبوں اور ثقافتوں کے مابین افکار اور آراء کا تبادلہ کرنے کا اہتمام کرتا ہے، جس سے تمام انسانیت کے لیے امن و سلامتی کی راہیں ہموار ہوتی ہیں، گرینڈ امام نے اس بات کا یقین دلایا کہ ازہر شریف بقائے باہمی اور احترام غیر کی اساس پر قائم ہونے والی حقیقی سلامتی کی خاطر امریکہ کے مختلف اداروں کے ساتھ تعاون کرنے کے لیے تیار ہے، انھوں نے مسلم اقوام اور امریکی قوم کے مابین اسٹیریو ٹائپ اسالیب کو تبدیل کرنے اور حقیقی معتدل تصویر پیش کرنے کے ضمن میں باہمی تعاون کی خواہش کا بھی اظہار کیا، انہوں نے امریکی عوام کی شعوری بالیدگی پر بھروسے کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ بین الاقوامی سیاست اور سیاست دانوں کے لگائے جانے والے نعروں کے مابین فرق کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، یہ نعرے قوموں کی غلط تصویر پیش کرتے ہیں اور صرف ان کے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں۔
دوسری جانب قائم مقام امریکی سفیر نے مختلف مذاہب اور تہذیبوں کے مابین روابط اور امن و رواداری کو قائم کرنے کے لیے شیخ الازہر کے وژن کو سراہا، انہوں نے دنیا کے مسلمانوں کے لئے ایک بڑے مرکز کے طور پر ازہر شریف کے لیے اپنے احترام کا اظہار کیا۔