شیخُ الازہر کی فرانسیسی سفیر سے ملاقات — علمی و ثقافتی روابط کے فروغ پر تبادلۂ خیال
عزت مآب امام اکبر پروفیسر ڈاکٹر احمد طیب، شیخُ الازہر شریف ، نے قاہرہ میں متعین فرانس کے سفیر، عزت مآب ایریک شوفالییہ، کا استقبال کیا۔ ملاقات میں ازہر شریف اور فرانس کے درمیان علمی و ثقافتی تعاون کو مزید مستحکم بنانے اور باہمی روابط کے فروغ کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو کی گئی۔
اس موقع پر عزت مآب امام اکبر نے کہا کہ ازہر شریف کے فرانس کے ساتھ نہایت مضبوط علمی اور ثقافتی تعلقات قائم ہیں، اور جامعۃ الازہر کے کلیہ لغات و ترجمہ میں فرانسیسی زبان کے شعبہ جات، نیز الازہر کے فرانسیسی زبان کے تعلیمی مرکز نے ان تعلقات کی ترقی اور استحکام میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ شیخُ الازہر نے فرانسیسی زبان سیکھنے کے اپنے ذاتی تجربات اور فرانس میں قیام کی یادوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ: ’’میں اور میری نسل کے بہت سے افراد اپنے اساتذہ کی بدولت فرانسیسی زبان سے محبت کرنے لگے، کیونکہ وہ فرانس کی جامعات سے تعلیم حاصل کر کے آئے تھے اور جامعۃ الازہر کے کلیۂ اصول الدین میں ہمیں پڑھاتے تھے۔ انہوں نے ہمیں اس خوبصورت زبان کے سیکھنے کی ترغیب دی۔ میں نے تصوف اور اسلامی فلسفے سے متعلق بعض کتابوں کا عربی سے فرانسیسی زبان میں ترجمہ بھی کیا، اور میری خواہش تھی کہ اس سلسلے کو مزید جاری رکھوں، مگر دیگر علمی ذمہ داریوں نے مجھے اس سے روک دیا۔ میری آرزو ہے کہ نوجوان محققین اور اہلِ علم علمی و ثقافتی ورثے کی منتقلی کے لیے تراجم کے میدان کو اپنی ترجیحات میں شامل کریں۔‘‘
ملاقات کے دوران شیخُ الازہر نے موجودہ عالمی بحرانوں پر بھی اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا: ’’آج دنیا کا بنیادی مسئلہ غرور، تکبر اور مادی طاقت، خصوصاً اسلحے کی قوت پر اندھا اعتماد ہے۔ مشرق میں وہ جنگیں چھیڑی گئیں جن کے حقیقی اسباب موجود نہ تھے، مگر ان کے اثرات نے مغرب کو بھی معاشی اور سماجی طور پر متاثر کیا۔ اس کے باوجود یہ جنگیں اپنے کسی بھی مقصد کو حاصل نہ کر سکیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ان جنگوں کو بھڑکانے والوں نے انسانی اقدار اور مذہب سے پھوٹنے والے اخلاقی اصولوں کو نظر انداز کیا۔ آج دنیا ایسی بے لگام طاقتوں کے ہاتھوں پریشان ہے جو اخلاقی قدروں اور انسانی ضابطوں سے آزاد ہو چکی ہیں۔ اگرچہ بعض دانش مند آوازیں موجود ہیں، مگر بدقسمتی سے ان کی آواز اب بھی ان فتنہ پرور قوتوں کے شور میں دبی ہوئی ہے۔‘‘
دوسری جانب فرانسیسی سفیر نے شیخُ الازہر سے ملاقات پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے عالمی امن، انسانی اخوت اور باہمی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے امام اکبر کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے ازہر شریف خصوصاً کلیۂ لغات و ترجمہ اور فرانسیسی زبان کے تعلیمی مرکز — اور فرانس کے درمیان جاری علمی تعاون کو نہایت اہم قرار دیا، اور اس عزم کا اظہار کیا کہ دونوں فریق علمی و ثقافتی روابط کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھیں گے، تاکہ تعلیمی اور تہذیبی مقاصد کو بہتر طور پر آگے بڑھایا جا سکے۔