شیخ الازہر اللہ کے نام " مھیمن" کی وضاحت کرتے ہیں، اور تاکید کرتے ہیں کہ جو شخص عربی زبان کے اسرار نہیں جانتا وہ اس نام کے فہم میں تشویش کا شکار ہو جاتا ہے۔

برنامج الإمام الطيب ٢٠٢٢.jpeg

امام اکبر پروفیسر ڈاکٹر احمد طیب شیخ الازہر  نے کہا:   اللہ تعالی کا نام  مہیمن تین امور کو شامل ہے: کسی کام کو کرنا اور اس کی رعایت کرنا،  اور وہ اس چیز کا نگہبان ہو اور اس پر  حاضر ناظر ہو،  اور یہ تمام معانی حقیقت کے ساتھ اللہ پر ہی منطبق ہو سکتے ہیں،  لاعلم بندے کے لئے  اشیاء کو جاننا اور ان پر  ہر وقت نگہبان ہو نا ناممکن ہے،  کیونکہ اسے نیند آ جاتی ہے اور وہ بھول بھی جاتا ہے،  اسی طرح وہ  ان اشیاء پر حاضر ناظر بھی نہیں رہ سکتا کیونکہ ہو سکتا ہے  ایک  چیز کو دیکھ رہا ہوں اور دوسری کو نہ دیکھ پا رہا ہو،  ایک زمان و مکان میں مشاہدہ کر رہا ہو مگر دوسرے زمان و مکان میں اس کا مشاہدہ نہ ہو۔  شیخ الازہر نے اپنے رمضان پروگرام " امام طیب" کی گیارہویں نشست میں واضح کیا کہ اسمائے حسنیٰ دو قسموں پر مشتمل ہیں: ایک وہ نام ہے جو غیر اللہ کے لیے حقیقتا  یا مجازا نہیں رکھے جا سکتے،  جیسا کہ اللہ کا نام رحمن ہے،  دوسری وہ صفات ہیں جو مشترک ہیں جیسا کہ عالم رازق اور قادر،  اور یہ اشتراک صرف لفظی ہوتا ہے لیکن عالم کا مانا سے متعلق ہیں بندے کے لئے مراد  لینا مناسب نہیں ہے،  انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ یہ بات بندے کی حیثیت کم نہیں کرتی،  لیکن ہر چیز کو اپنی قدر و قیمت پہچاننی چاہیے،  ہم پانی کے برتن کو سمندر نہیں کہہ سکتے اور اسی طرح سمندر کو پانی کے برتن سے تشبیہ دینا بھی  ظلم ہے۔ 
 امام اکبر نے آیت کریمہ میں وارد مھیمن کے واضح کرتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگ عربی زبان  سے ناواقفیت کی بنا پر اس کے معنی کو غلط طور پر سمجھ لیتے ہیں،  اللہ تعالی کا  قول:  و انزلنا الیک الکتاب بالحق  مصدقا لما  بین یدیہ  من الکتاب ‏و مھیمنا علیہ،  کتاب سے یہاں مراد  کتابیں ہیں،  ایک کتاب مراد نہیں ہے،  یہاں صیغہ مفرد ہے لیکن مراد جمع ہے،  اور یہ معنی الف لام کی وجہ سے ہے یعنی وہ تمام کتابیں جو اللہ نے نازل کی ہیں، انہوں نے متوجہ کیا ہے کہ جو آدمی عربی زبان کے اسرار  کو نہیں جانتا وہ قرآن و سنت کے فہم میں  غلطی کھا سکتا ہے بلکہ شعر کو سمجھنا بھی مشکل ہو جاتا ہے،  پھر  آیت کو سمجھنے میں غلط فہمی ہو جاتی ہے،  اسی طرح اللہ کے نام  مہیمن سے غلبہ مراد لینا غلط مفہوم ہے کیونکہ یہاں  مہیمن  سے مراد گواہ ہے،  یعنی اللہ نے کتاب نازل کی اور کچھ نے اس پر ایمان لایا اور کچھ نے انکار کیا وہ اس پر گواہ ہے۔
اور یہاں اس آیت میں امام اکبر نے مہیمنا علیہ کمانا واضح کرتے ہوئے کہا اس سے مراد شاہد ہے، یعنی تصدیق کرنے والا اور شاہد یعنی گواہ دونوں معنی لئے جا سکتے ہیں، اسی لیے قرآن تمام سابقہ کتب پر گواہ ہے اور ان پر بھی جو ایمان لائے اور جو ایمان نہیں لائے، آیت کریمہ میں مھیمن کا مطلب یہی ہے کہ وہ آسمانی کتب پر گواہ ہے،  انہوں نے اپنی بات ختم کرتے ہوئے کہا کہ یہ امت بھی سابقہ امتوں پر گواہ ہے کیونکہ یہ آخر میں آئی ہے اور اس کے پاس قرآن کے ذریعے ان امتوں کا علم موجود ہیں چنانچہ  یہ ان پر گواہ ہے۔

خبروں کو فالو کرنے کے لیے سبسکرائب کریں

تمام حقوق امام الطیب کی ویب سائٹ کے لیے محفوظ ہیں 2025