اپنے پروگرام " امام طیب" میں گفتگو کرتے ہوئے کہا: اللہ کا نام " قہار" ایسے لوگوں کو چیلنج کرتے ہوئے الوہی عدل کا اظہار ہے جو لوگ اللہ کے بندوں سے کھیلتے ہیں اور زمین پر تکبر کرتے ہیں۔
امام اکبر پروفیسر ڈاکٹر احمد طیب شیخ الازہرنے کہا: اللہ تعالی کا نام " القہار" قرآن میں اسی نام کے ساتھ آیا ہے اور قاہر بھی وارد ہوا ہے، انہوں نے کہا کہ علماء نے اس کے لغوی معنی تلاش کئے تو انہیں معلوم ہوا کہ یہ قہر سے ماخوذ ہے، جس کا معنی کسی طاقتور کے آگے مطلق طور پر جھکا دینا ہے، اس کا معنی یہ ہے کہ اللہ ظالموں کو جھکا دینے والا ہے اور ان کے بارے میں موت، شکست یا بیماری کا فیصلہ کرنے والا ہے، کیونکہ حکمت کا تقاضہ یہی ہے، الوہی عدل اور انسانی منطق یہی کہتی ہے کہ جو لوگ اللہ کی زمین پر اللہ کےبندوں سے کھیلتے ہیں اور کمزوروں کے ساتھ تکبر سے پیش آتے ہیں ان کو جھکا نےکے لئے ایک زبرددست قوت ہونی چاہیے۔
امام اکبر نے حیات چینل پر نشر ہونے والے اپنے رمضان پروگرام " امام طیب" کی سولہویں نشست میں واضح کیا کہ: قہار کا مطلب یہ ہے کہ تمام مخلوقات اللہ کی مشیت، اس کی قدرت، ارادے اور علم کے آگے خمیدہ سر ہے، ساری کائنات اور اس کے تمام عناصر قانون الہی کے آگے سربسجود ہیں جو قانون کسی بھی وقت خامی کا شکار نہیں ہوتا، انہوں نے اس طرف اشارہ کیا کہ اس طرح کا تسلیم و سجود زندگی کو منظم کرنے کا وظیفہ ہے، جیسے ہم دیکھتے ہیں کہ انسان زندگی کو منظم کرنے کے لئے قانون کو تسلیم کرتا ہے، اسی طرح یہ کائنات ایک بہت بڑی فیکٹری ہے جو حادثاتی طور پرکام نہیں کرتی، نہیں تو وہ پہلے ہی لمحے ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہو جاتی، اس بات کی دلیل کار کا مطلب خدا کا غالب قانون ہے، ایسے کہ لوگ کہتے ہیں ارادہ اور مشیت مخالف ہو گیا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان بسا اوقات اپنے معاملات کو مرتب کرتا ہے اس کے لئے سارے امکانات موجود ہوتے ہیں، وہ پھر اس معاملے کو شروع کرتا ہے اور نتیجہ اس کے ہاتھ میں ہوتا ہے لیکن اچانک نتیجہ یکدم اس کے برعکس ہو جاتا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک زبردست قوت موجود ہے جس نے اس تمام تنظیم کو سر کے بل الٹا دیا۔
شیخ الازہر نے واضح کیا کہ: اللہ کے نام " القہار" کا انکار کرنے والے دو قسم کے لوگ ہیں: ایک وہ جو اللہ پر ایمان رکھتے ہیں، حقیقت کو جانتے ہیں مگر سرکشی پر اتر آئے ہیں، یہ ملحد ہے اور اللہ کے عادل ہونے کا انکار کر رہا ہے، یا اس کا ہدف صرف شور ڈالنا ہے کہ وہ کیسا خدا ہے جو قہار ہے، یہ بات بہت پرانی ہے، نئی نہیں ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کو یہ بات پہنچی، اس نے اس میں غور کیا اور اس نتیجے پر پہنچا کہ یہی بات ٹھیک ہے، مگر پھر اس نے انکار کر دیا، جیسے اللہ تعالی کا ارشاد ہے: انہوں نے اس کا انکار کر دیا، لیکن ان کے نفس اس بات کا یقین رکھتے ہیں، چنانچہ یہ وہی ہے جو ایمان کے بعد انکار کر دیتا ہے، اور دوسرا وہ شخص ہے جسے تشویش زدہ بات پہنچی اور وہ راستے سے بھٹک گیا، اور پھر انتہا پسندی کا شکار ہو گیا، انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ جس شخص کو سرے سے دعوت پہنچی نہ ہو تو اللہ اس کا مواخذہ کیسے کرے گا، جو شخص یہ جانتا ہی نہیں ہے کہ محمد ﷺکون ہیں، ان کا پیغام کیا ہے، اس نے قرآن ہی نہ پڑھا ہو، تو اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ہم رسول بھیجنے سے پہلے کسی کو عذاب نہیں دیتے، تو اللہ کسی کو حجت قائم ہونے سے پہلے عذاب نہیں دیتا، وہ اپنی طرف سے معجزات دے کر آپ کی طرف رسول بھیجتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ نبی اکرم ﷺنہیں قریش کا اس وقت مقابلہ کیا جب آپ انتہائی کمزور تھے اور وہ پوری قوت رکھتے تھے، آپ ﷺنے یہ آیت پڑھتے ہوئے انہیں کہا کہ اللہ ظلم نہیں کرتا، اور انہیں دوسری آیت سنائی، جو کہتی ہے کہ اللہ قہار ہے: لمن الملک الیوم للہ الواحدالقہّار، تاریخ میں کسی شخص نے بھی انہیں یہ نہیں کہا کہ آپ متضاد شخص ہیں، کبھی کہتے ہیں کہ وہ ظلم نہیں کرتا اور کبھی کہتے ہیں کہ وہ قہار اور منتقم ہے، حالانکہ وہ لوگ دن رات آپ پر گھات لگائے ہوئے بیٹھے ہوتے تھے، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تاریخ ہمیں یہ تو بتاتی ہے کہ انہوں نے آپ ﷺکون کتنی تکلیف دی، آپ پر گندگی پھینکی اور اپنے وطن سے انہیں نکال دیا، لیکن کسی نے آپ پر متضاد باتوں کی تہمت نہیں لگائی، اس کی وجہ یہ ہے اہل عرب قہار کا مطلب صرف جھکانا اور انتقام لینا نہیں لیتے، بلکہ وہ ان متکبرین اور سر کشوں کے ضمن میں بھی استعمال ہوتا ہے جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں، چنانچہ الفاظ کے سیاق اور ان کی دلالتوں کے علم نے انہیں ایسی بات کہنے سے منع کیا۔
امام اکبر نے آپ ختم کرتے ہوئے کہا کہ: قہار کا مطلب قہر اور جھکانا ہے، اور یہ سرکشوں کے ساتھ خاص ہے، اور یہ زندگی میں ضروری ہے تاکہ انتشار نہ پھیلے، اور تاکہ ہر کوئی ایک ہی ارادے اور قدرت کے تابع ہو، وہ چیز ہم کائنات میں، اپنے آپ میں اور امیدوں کو ٹوٹنے میں دیکھتے ہیں، آپ بیٹا پانا چاہتے ہیں لیکن نہیں پا سکتے، آپ لمبی زندگی جینا چاہتے ہیں مگر وفات جاتے ہیں، وغیرہ وغیرہ، ہم ان سب چیزوں کو دیکھیں تو ہم خود کو اس معنی میں محکوم پائیں گے، انہوں نے بیان کیا کہ اللہ کے نام " القہار" سے انسان کا حصہ یہ ہے کہ وہ اللہ کے دشمنوں کو مقہور کرے اور اسی طرح اپنے نفس کو بھی مغلوب کرے، اپنے پہلو کے دشمن نفس کے لئے خود کو تیار کرو، کیونکہ وہ ہمیشہ برائی کا حکم دیتا ہے، میں اپنے نفس کو بری نہیں کرتا کیونکہ نفس برائی پر ابھارنے والا ہے، اور اسی طرح شیطان اور خواہش نفس کو جھکا دے، چنانچہ انسان ان تین دشمنوں کو مغلوب کرنے کے لئے خود کو سکھاتا ہے اور تربیت دیتا ہے، کیونکہ ان پر غلبہ پا لینا ہی اس کی نجات ہے۔