شیخ الازہر کہتے ہیں: آزمائش اللہ کی طرف سے ایک تحفہ ہے جو ایمان کی قوت کے بقدر اور سخت ہو جاتی ہے، لوگوں میں سب سے زیادہ آزمائشیں انبیاء پرآئی ہیں۔

برنامج الإمام الطيب ٢٠٢٢.jpeg

امام اکبر پروفیسر ڈاکٹر  احمد طیب شیخ الازہر  نے کہا:  اللہ کی صفت رحمت اور  وہاب میں ایک  تعلق ہے،  سورت آل عمران کی ایک آیت میں اللہ نے رحمت اور وہاب کو اکٹھا ذکر کیا ہے: رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِن لَّدُنكَ رَحْمَةً ۚ إِنَّكَ أَنتَ الْوَهَّابُ، "اے ہمارے رب! ہميں ہدايت دينے كے بعد ہمارے دل ٹيڑھے نہ كر دے اور ہميں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما، يقينا تو ہى بہت بڑى عطا دينے والا ہے "
  اللہ اپنے بندوں پر رحمت کرتا ہے یا انہیں عطا کرتا ہے تو یہ دونوں اللہ کی بندوں پر رحمت ہی ہے،  یہاں بندہ کہہ سکتا ہے کہ وہاب جو کچھ بھی عطا کرتا ہے وہ کیا ہمارے لئے رحمت ہے؟ درد اور تکلیف رحمت کیسے ہو سکتے ہیں؟ 
شیخ الازہر اپنے رمضان پروگرام " امام طیب کی گفتگو"  کی اٹھارہویں نشست میں جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ: بندوں کے لیے اللہ کے تمام افعال رحمت ہیں اور اللہ جو بھی انہیں عطا کرتا ہے وہ رحمت ہے، یہاں تک کہ رنج و الم اور تکلیف و مرض وغیرہ بھی رحمت ہے، جنہیں ‏ انسان رحمت  تصور نہیں کرتا؛  علماء نے کہا کہ یہ افعال بھی اللہ کے نام الوہاب  کے تحت ہی ہیں اور اس سے خارج نہیں  ہوں گے، ان کا ایک گہرا معنی ہے بندہ جس کا تصور نہیں کرتا،  جو آدمی اس میں غور و فکر کرتا ہے وہ اسے حال کی بجائے اپنے انجام کے اعتبار سے نعمت میں شمار کرے گا،  اگر یہ انتقام یا مصیبت ہوتی  تو اللہ اس کے لیے اپنے انبیاء جیسے محبوب بندوں کو مختص نہ کرتا۔
امام اکبر نے مزید کہا کہ: آزمائش بندوں کے لئے اللہ کا تحفہ ہے، ایمان جتنا مضبوط ہوگا، آزمائش اتنی زیادہ ہو گئی,  نبی اکرم ﷺسے جب سوال ہوا کہ: کن لوگوں کی آزمائش سخت ہے؟ فرمایا: انبیاء،  پھر نیک لوگ،  پھر جو جتنا انبیاء اور نیک لوگوں کے  جیسا ہوتا ہے، آدمی اپنے دین کے بقدر آزمایا جاتا ہے، اگر اس کے دین میں مضبوطی ہو تواس کی آزمائش بڑھ جاتی ہے، اگر دین کمزور ہو تو آزمائش بھی کم ہوتی ہے،  مومن اس وقت تک آزمایا جاتا ہے جب تک زمین پر چلتے  ہوئے اس پر کوئی گناہ باقی نہیں رہ جاتا۔  اسی طرح انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت کو بطور دلیل پیش کیا،  وہ کہتے ہیں:  میں رسول اللہﷺکی خدمت میں حاضر ہوا،  آپ کو شدید بخار تھا،  میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کو شدید بخار ہے،  آپ نے فرمایا: مجھے تم  میں سے دو آدمیوں جتنا بخار ہے،  میں نے کہا: اس لیے کہ آپ کا ثواب بھی  دگنا ہے،  آپ نے فرمایا: ہاں یہی بات ہے، مسلمان کو جو بھی تکلیف پہنچتی ہے کانٹا ہو یا اس سے زیادہ تکلیف دینے والی چیز ہو تو جیسے درخت اپنے پتوں کو گراتا ہے اسی طرح اللہ  اس تکلیف کو اس آدمی کے گناہوں کا کفارہ بنا دیتا ہے۔ یعنی: درخت کے  کے پتے اس کے گناہ بھی ایسے ہیں جھڑنا شروع ہو جاتے ہیں،  یہ حدیث ہر بیمار کے لیے بلکہ ہر اس مومن کے لیے بشارت ہے جو تکلیف پر صبر کرتا ہے۔
امام اکبر نے اپنے پروگرام " شیخ الازہر کی گفتگو" کی اٹھارہویں نشست میں اپنی بات ختم کرتے ہوئے کہا:  اللہ کی صفت الوہاب ہبہ سے ماخوذ ہے،  جس کا مطلب بغیر کسی بدلے کے عطا کرنا ہے،  اور اس معنی میں یہ صرف اللہ کے ساتھ ہی خاص ہے، بندے کی صفت نہیں ہو سکتی،  چنانچہ آدمی کو جس قدر ہو سکے اس صفت کے ساتھ مشابہت پیدا کرنی چاہیے،  کہ وہ عطاء کرنے کے بعد اس کا ثواب صرف اللہ سے چاہے، مثال کے  طور پر ایک ڈاکٹر غریبوں کا علاج مفت کرے۔
  پروگرام "شیخ الازہر کی گفتگو" روزانہ  اولی  مصری چینل، حیات چینل،  ابوظہبی چینل،  نیل ریڈیو، کئی مصری اور عرب چینلز پر نشر ہوتا ہے جس میں امام اکبر  پروفیسر ڈاکٹر احمد طیب شیخ الازہر اسمائے حسنی کی  شرح، ان صفات کی اہمیت،  انہیں اپنانے کا طریقہ اور انسان کو لاحق مادی و نفسیاتی دباؤ کم کرنے میں ان کے اثرات پر گفتگو کرتے ہیں،  اور انہیں ایک عبادت کے طور پر بیان کرتے ہیں جس کا اللہ نے اپنی کتاب کریم میں واضح حکم دیا ہے۔

خبروں کو فالو کرنے کے لیے سبسکرائب کریں

تمام حقوق امام الطیب کی ویب سائٹ کے لیے محفوظ ہیں 2025