شیخ الازہر نے عید الفطر کی مبارکباد کے موقع پر بابا تواضروس کا استقبال کیا
شیخ الازہر: خان یونس میں ناصر میڈیکل کمپلیکس پر حملہ صیہونی ظلم و درندگی کی انتہا اور انسانیت سے عاری سفاکیت کی علامت ہے
شیخ الازہر اور بابا تواضروس: فلسطینیوں کی جبری ہجرت کی ہر کوشش مسترد کرتے ہیں
عزت مآب امام اکبر، پروفیسر ڈاکٹر احمد طیب، شیخ الازہر شریف نے مشیخۃ الازبر میں پوپ تواضروس الثانی، بابا الاسکندریہ اور بطریرک کلیسائے قبطی کا استقبال کیا، جو عید الفطر کی آمد پر مبارکباد دینے کے لیے تشریف لائے۔
بابا تواضروس نے شیخ الازہر اور تمام مسلمانوں کو عید الفطر کی مقدس خوشیوں پر مبارکباد پیش کی انہوں نے مصر کے مسلمانوں اور مسیحیوں کے لیے امن، محبت اور استحکام کی دعا کی
شیخ الازہر نے اس پُرخلوص ملاقات اور محبت بھرے پیغام پر بابا تواضروس کا شکریہ ادا کیا
انہوں نے کہا کہ ایسی ملاقاتیں بین المذاہب بھائی چارے اور قومی یکجہتی کی علامت ہیں، اور مصری عوام کے درمیان مضبوط رشتے کو ظاہر کرتی ہیں"
دونوں مذہبی رہنماؤں نے غزہ پر صیہونی حملوں کی صورتِ حال پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔
شیخ الازہر نے خان یونس کے ناصر میڈیکل کمپلیکس پر حملے کو "دہشت گردانہ اور سفاکانہ حملہ" قرار دیا انہوں نے کہا: "یہ محض جنگ نہیں، بلکہ ایسی تباہ کن نفرت کا اظہار ہے جس سے حملہ آور ہر انسانی جذبے سے عاری ہیں"
دونوں قائدین نے عالمی خاموشی کی سخت مذمت کی فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے بے دخل کرنے کی ہر کوشش کو مکمل طور پر مسترد کیا مصری اور عرب موقف کی حمایت کی جو فلسطینیوں کے وطن سے وابستگی کا حامی ہے
گفتگو میں معاشرتی مسائل اور ثقافتی یلغار کا بھی ذکر آیا، جو سوشل میڈیا کے ذریعے نئی نسل اور نوجوانوں کو نشانہ بنا رہی ہے، جہاں بیرونی افکار ہمارے گھروں اور ہماری اولاد کے ذہنوں تک بغیر کسی نگرانی کے پہنچ رہی ہیں۔ اسی طرح انہوں نے بامقصد میڈیا کی اہمیت اور کردار پر زور دیا، جو شناخت پر فخر کے جذبات کو مضبوط بنائے، اقدار و اخلاق کو فروغ دے اور مثالی شخصیات کو سامنے لائے۔ انہوں نے مغرب سے درآمد شدہ افکار کی اندھی تقلید اور ان کا ہماری معاشرت میں فروغ دینے کے خطرات سے خبردار کیا، اور کہا کہ ایسے بامقصد میڈیا اور ڈرامائی مواد کی کمی یا نایابی، جسے مصری خاندان اپنے بچوں کے لیے محفوظ سمجھیں، ایک خطرے کی گھنٹی ہے، اور لازم ہے کہ ہم دوبارہ اپنے رخ کو درست سمت میں موڑیں، جو ہماری اقدار، اخلاق، اور فکری و تہذیبی ورثے کے مطابق ہو۔