امام اکبر نے فرانسیسی کرسچن ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ کا استقبال کیا ہے۔
فرانسیسی کرسچن ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ سے ملاقات کے دوران.. گرینڈ امام: - ازہر انتہا پسند نظریات کا مقابلہ کرنے اور فرانس کے اماموں کو تربیت دینے کے لئے تیار ہے۔ فریڈرک پوائسن: مغرب کو فوری طور پر ازہر کی کوششوں سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔ باتکلان کا دورہ ایک عظیم انسانی حیثیت ہے ۔۔ مجلس حکمائے مسلمین کے صدر، عزت مآب امام اکبر، شیخ ازہر جناب پروفیسر ڈاکٹر احمد الطیب نے فرانس کے دارالحکومت پیرس میں اپنی رہائش گاہ پر داعش مخالف ورکنگ گروپ کے سربراہ، فرانسیسی قومی اسمبلی کی لاء کمیٹی کے نائب سربراہ اور کرسچن ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ ژاں فریڈرک پوائسن کا استقبال کیا ہے۔
ملاقات کے دوران امام اکبر نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ازہر مختلف ذرائع استعمال کرکے انتہا پسندانہ نظریات کا مقابلہ کرنے کا بھرپور عزم رکھتا ہے اور اس بات کی بھی وضاحت کی کہ ازہر نے داعش کے الزامات کا جواب دینے اور نوجوانوں میں غلط فہمیوں کو درست کرنے کے لئے آٹھ غیر ملکی زبانوں میں ایک آبزرویٹری قائم کیا ہے اور اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ آنے والے عرصے کے دوران ازہر آبزرویٹری کو ترقی دینے اور دیگر زبانوں کو شامل کرنے کا منصوبہ ہے۔
امام اکبر نے کہا کہ ہم اس فکر کا مقابلہ کرنے کے لئے بہت سے ذرائع استعمال کرتے ہیں، خواہ کانفرنسوں، سیمیناروں، کتابوں اور دیگر حوالہ جات کے ذریعے ہو، دعوتی قافلوں اور امن کے قافلوں کو بھیجنے کے ذریعے ہو جو دنیا کے مختلف براعظموں میں گھومتے ہوئے اسلام کی رواداری پر زور دیتے ہیں اور امن اور بقائے باہمی کا مطالبہ کرتے ہیں اور امام اکبر نے اس بات بھی تصدیق کی کہ وسطیت اور اعتدال کے منہج پر فرانسیسی اماموں کی تربیت کا انتظام کرے گا اور اسی طرح مساجد کی ایک متفقہ فہرست قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ دعوتی کاموں میں اس کی پابندی کی جا سکے جس سے مساجد کی آزادی اور معاشرے کی آزادی حاصل ہو اور جو بھی اس سے اس طرح ہٹے گا جس سے انتہا پسندانہ نظریات کو پھیلانے میں مدد ملے گی اس کا احتساب کیا جائے گا۔
امام اکبر نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ اسلام کی دعوت حکمت اور اچھی نصیحت کے ذریعے ہوگی اور یہ کبھی بھی قتل، نقل مکانی، خونریزی اور دیگر جرائم کی دعوت نہیں دی گئی ہے جو آج یہ دہشت گرد گروہ انجام دے رہے ہیں اور یاد رہے کہ یہ گروہ کسی بھی طرح سے اسلام کی رواداری کے پابند نہیں ہیں۔
اسی سلسلہ میں پوائسن نے امام اکبر کا شکریہ ادا کیا ہے اور اس بات کی تاکید کی ہے کہ یہ دورہ ایک انتہائی اہم وقت میں ہوا ہے اور انہوں نے اعتدال اور امن کو پھیلانے اور انتہا پسندانہ نظریات کے خلاف جنگ میں ازہر کی کوششوں کو سراہتے ہوئے، یہ واضح کیا ہے کہ مغرب کو ان کوششوں سے فائدہ اٹھانے، ان کو استعمال کرنے اور نوجوانوں کے درمیان نشر اور عام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ انہیں انتہا پسندانہ فکر کے خطرات سے بچایا جا سکے۔
پوائسن نے باٹاکلان تھیٹر میں امام اکبر کے دورے کی تعریف کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ یہ ایک عظیم انسانی حیثیت کی عکاسی کرتا ہے اور اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا ہے کہ اس دورے سے فرانسیسی معاشرے پر بہت اچھا اثر پڑے گا جو ازہر کو اعتدال اور وسطیت کی علامت کے طور پر دیکھتا ہے۔