امام اکبر کی سویڈن کے آرچ بشپ سے گفتگو: ازہر غریبوں کے لئے مسکراہٹ اور امن کی بحالی کے لئے مذہبی اداروں کے ساتھ بات چیت کرتا ہے
عزت مآب امام اکبر، شیخ ازہر جناب پروفیسر ڈاکٹر احمد الطیب نے قاہرہ کے دورہ کے دوران سویڈش چرچ کے ایک وفد سے ملاقات کی جس کی سربراہی سویڈن کے آرچ بشپ اینٹی جیکولین کر رہے تھے۔ امام اکبر نے یہ بھی کہا کہ دنیا کے درمیان امن قائم کرنے کے لئے سب سے پہلے مختلف مذاہب کے پیشواؤں کے درمیان امن قائم کیا جانا چاہئے اور اسی لیے ازہر نے چرچ آف کینٹربری، ویٹیکن، چرچز کی عالمی کونسل اور بہت سے گرجا گھروں اور مذہبی اداروں کے ساتھ بات چیت کرنا شروع کیا ہے تاکہ امن کی بحالی کے ساتھ ساتھ ان غریبوں اور یتیموں کے لئے مسکراہٹ لائی جا سکے جو ان تنگ پالیسیوں کے شکار ہیں جو سادہ لوح عوام کے خون اور ان تکلیفوں کے نام پر اپنے مفادات حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ امام اکبر نے مزید وضاحت کی کہ مصری معاشرے میں مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان رابطے اور بقائے باہمی کا ایک کامیاب تجربہ ہے جو ان کے مشترکہ تانے بانے کی نمائندگی ہے اور ازہر نے مصری کلیساؤں کے ساتھ اس ماڈل کو مصری فاملی ہاؤس کے ذریعے دنیا کے سامنے پیش کرنے پر اتفاق کیا ہے اور اس بات پر زور بھی دیا ہے کہ شہریت وہ بنیاد ہے جس کے تحت مختلف مذاہب کے شہری جمع ہوتے ہیں۔
دوسری طرف سویڈن کے آرچ بشپ نے امن پھیلانے اور انتہا پسندی، دہشت گردی اور مذہب کے نام پر ہونے والے جرائم کا مقابلہ کرنے کے لئے ازہر کے وژن کے بارے میں جاننے کے لئے اپنی خواہش کا اعادہ کیا ہے اور مزید یہ بھی کہا ہے کہ تمام مذاہب میں ایسی عبارتیں ہیں جن کو اکثر تشدد کا جواز پیش کرنے کے لئے غلط سمجھا جاتا ہے حالانکہ مذاہب درحقیقت اپنے نام پر ہونے والی مجرمانہ کارروائیوں سے پاک وصاف ہے۔