شیخُ الازہر کی سوڈانی سفیر سے ملاقات، سوڈانی طلبہ کے لیے ازہری تعاون کے فروغ پر گفتگو
عزت مآب امام اکبر پروفیسر ڈاکٹر احمد طیب، شیخُ الازہر شریف نے بروز منگل مشیخۃ الازہر میں سوڈان کے سفیر برائے قاہرہ، لیفٹیننٹ جنرل انجینئر عماد الدین مصطفیٰ عدوی سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں سوڈانی طلبہ اور عوام کے لیے علمی و ثقافتی تعاون کو مزید وسعت دینے کے مختلف امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
شیخُ الازہر نے اس موقع پر ازہر شریف اور سوڈان کے درمیان قائم تاریخی اور گہرے تعلقات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ان روابط کی جڑیں صدیوں پر محیط ہیں۔ آپ نے رواق السناريہ کا خصوصی ذکر کیا، جو جامع الازہر میں سوڈانی طلبہ کے لیے مخصوص تھا ۔امام اکبر نے بتایا کہ اس وقت جامعۂ الازہر میں تقریباً دس ہزار سوڈانی طلبہ زیرِ تعلیم ہیں، جن میں سے آٹھ سو اٹھاسی طلبہ وظائف پر تعلیم حاصل کر رہے ہیں، جبکہ الازہر ہر سال سوڈان کے طلبہ کے لیے دو سو بیس تعلیمی وظائف بھی فراہم کرتا ہے ۔
شیخُ الازہر نے سوڈان میں جاری انسانی بحران اور تکلیف دہ حالات پر گہرے رنج و افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ازہر شریف اس آزمائش کی گھڑی میں سوڈان اور اس کے عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔ آپ نے سوڈانی عوام سے اپیل کی کہ وہ اتحاد و یگانگت کو فروغ دیں، اخوت و بھائی چارے کو مضبوط کریں، اور ہر ایسے اقدام کے خلاف یکجا ہو جائیں جو سوڈان کی وحدت، استحکام اور سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتا ہو۔ آپ نے زور دے کر کہا کہ سوڈان کی سرزمین کی سالمیت اور قومی وحدت کا تحفظ وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے، اور تمام سوڈانیوں کو باہمی تعاون اور یکجہتی کے ساتھ ملک کے اعلیٰ تر مفاد کے لیے کام کرنا چاہیے۔
دوسری جانب، سوڈانی سفیر نے شیخُ الازہر سے ملاقات پر خوشی اور مسرت کا اظہار کرتے ہوئے اسلام کی صحیح تعلیمات کے فروغ، اعتدال و وسطیت کے پیغام کی اشاعت، اور دنیا بھر کے مسلمانوں کی علمی و ثقافتی سرپرستی میں الازہر کے تاریخی کردار کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے خاص طور پر سوڈانی طلبہ کے لیے الازہر کی سرپرستی اور خصوصی توجہ کو سراہتے ہوئے کہا: ہم اپنے سوڈانی طلبہ کے حوالے سے آپ کی گہری دلچسپی اور شفقت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ سوڈانی عوام کے نزدیک الازہر سب سے معتبر دینی مرجع کی حیثیت رکھتا ہے، اور ہم خواہش رکھتے ہیں کہ سوڈان میں ازہری ادارے قائم کیے جائیں تاکہ ہماری نئی نسل کو اعتدال، توازن اور صحیح اسلامی فکر سے آراستہ کیا جا سکے۔